Monday, June 1, 2026
More
    ٹوٹا ہے کوئی خواب یا جاگے ہیں خواب میں
    خواہش نمو کی لے گئی ہَم کو سراب میں
    پڑھتے ہی اس کو اپنی طبیعت اُلجھ گئی
    جاری یہ شعر کس نےکیا تھا نصاب میں
    اِس دور میں بھی عشق اک ایسا سوال ہے
    نفرت ہی آ رہی ہے برابر جواب میں
    دنیا میں جل پری ہو  تو جنت میں حور ہو
    ہیں شیخ کے مطالبے کارِ ثواب میں
    تخلیق ہُوں میں ایسی  کہ ثانی نہیں کوئی
    ایسا ہی ذکر آیا ہے میرا کتاب میں
    نالہ مرا ــــــــــــــــــــ سُرُور سے آگے کی چیز ہے
    آواز میری بجتی ہے ــــــــــــــ چنگ و رباب میں
    میں نے تمام عُمر ـــــــــــــــــــــ محبت کمائی ہے
    پلڑا یہ بھاری رکھے گی ــــــــــ میرا حساب میں
    حسان احمد اعوان

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here

    Advertisingspot_img

    Popular posts

    My favorites

    I'm social

    0FansLike
    0FollowersFollow
    0FollowersFollow
    0SubscribersSubscribe