Wednesday, February 4, 2026
More
    Home Blog Page 8

    ستم گر یہ کیسی سزا چل رہی ہے

    0

    ستم گر یہ کیسی سزا چل رہی ہے

    حیات اب بہ سُوئےِ قضا چل رہی ہے

    وہ ہر لحظہ مشقِ ستم کر رہے ہیں

    یہاں اب بھی رسمِ وفا چل رہی ہے

    رہوں جامِ قُربت سے محروم کیونکر

    مری چشم تیری ادا چل رہی ہے

    مریضِ مُحبت رہا ہوں ازل سے

    تری دید اب بھی دوا چل رہی ہے

    یونہی بد گماں ہوں میں اپنے عمل پر

    مرا فعل، تیری رضا چل رہی ہے

    ہے لگتا تری زُلف میں خَم سا آیا

    تبھی یہ معطر فضا چل رہی ہے

    حسان احمد اعوان

    چشمِ خواہش سے بھی کچھ حُسن شناسائی ہو

    0

    چشمِ خواہش سے بھی کچھ حُسن شناسائی ہو

    کچھ تو اے جانِ غزَل دل کی پذیرائی ہو

    تم نے تو آنکھ ملانا ہے ملاتے رہنا

    کونسا میکدہ کھولا ہے کہ رسوائی ہو

    بہتی خوشبو کا نیا لَمس سمجھ میں آیا

    جوں صبا کوچہءجاناں سے گزر آئی ہو

    یہ جو اب راکھ ہوئے جاتے ہیں یادوں کے چراغ

    اِک سبب ہو بھی تو سکتا ہے کہ تنہائی ہو

    کیوں نہ اب میری نظر ُدور کے جلوے دیکھے

    تُم مری جان ، مرا منبعِ بینائی ہو

    حسان احمد اعوان

    خواب سا خواب ہے اور مجھ کو جگا رکھا ہے

    0

    پیکرِ حُسن بَصَد صِدق و صِفا رکھا ہے

    عکس آئینے میں آئینہ نُما رکھا ہے

    خود نمائ کو ہی تخلیق کیے سارے جہاں

    اور پھر دل میں مرے خود کو بسا رکھا ہے

    دعوے جنت کے کیے جاتے ہوصاحب ہر دم

    دیکھ لو نامئہ اعمال میں کیا رکھا ہے

    فیضِ نسبت سے ہی ممتاز ہو میں لوگوں میں

    مُجھ کو اُلفت نے گناہوں سے بچا رکھا ہے

    نیند سی نیند ہے سونے نہیں دیتی مجھ کو

    خواب سا خواب ہے اور مجھ کو جگا رکھا ہے

    میں بھی حسان سخنور ہوں مگر یاروں میں

    میرے شعروں نے مجھے سب سے جُدا رکھا ہے

    حسان احمد اعوان

    ہو پہچان میری، ثناء خوانِ احمدؐ (نعت)

    0

    عنایت عنایت عنایت ہو ہم پر

    اے پیکرِ رحمت بہ عنوانِ احمد

    یوں جگ جانتا ہے حضور آپکو کہ

    ہیں میٹھے محمد وذیشان احمد

    کبھی آپ یٰسیں کبھی آپ طٰہٰ

    یوں تعریف پائ ،ہیں قرآن احمد

    مجھے عشقِ شاہِ مدینہ عطا ہو

    میرے دل کا ارماں ہو ارمانِ احمد

    حسان اک تمنا،بس اک آرزو ہے

    ہو پہچان میری، ثناء خوانِ احمد

    حسان احمد اعوان 

    اس کو کرنا ہی نہیں آتا ہے جذبات پہ کام

    0

    شعر کہتا ہے کرو اپنی نفسیات پہ کام

    کرنا پڑ جاتا ہے ہم کو بھی کبھی بات پہ کام

    میرے احساس کی شدت کو وہ سمجھے کیسے

    اس کو کرنا ہی نہیں آتا ہے جذبات پہ کام

    یوں اُبھرتا ہے یہ دن رات کی تاریکی سے

    رات بھر جیسے کہ کرتا ہے کوئی رات پہ کام

    ان کو خواہش ہی بھلا کیوں ہے بدل جانے کی

    جو نہیں کرتے کبھی اپنے ہی حالات پہ کام

    خود ہی بکھرے گا یہ خوشبو کی طرح یاد رہے

    تم اگر کرتے رہے حرفِ طلسمات پہ کام

    میں نے اک عمر گزاری ہے دعا کرتے ہوئے

    اے خدا اب تو کرو میری مناجات پہ کام

    عمر بڑھتی ہے تو فطرت بھی بدل جاتی ہے

    عمر بھر کرتے ہیں ہم اپنی ہی عادات پہ کام

    حسان احمد اعوان

    ہجر کے درمیان گزری ہے

    0

    ہجر کے درمیان گزری ہے

    زندگی امتحان گزری ہے

    میری تقدیر میں لکھی نہیں تھی

    آج جو مجھ پہ آن گزری ہے

    باقی پل میں گزر گئے جاں سے

    لیکن اس دل سے جان گزری ہے

    کیسے گزری ہے زندگی اپنی

    کیسے منظر سے شان گزری ہے

    آن گزری ہے دیکھتے مجھ کو

    کچھ نہ کچھ دل میں ٹھان گزری ہے

    تیر نے کیا کماں سنبھالی تھی

    تیر سے کیوں کمان گزری ہے

    عمر گزری ہے اس طرح میری

    جیسے مجھ سے چٹان گزری ہے

    میں اسی گرد کا بگولا ہوں

    جو پسِ کاروان گزری ہے

    دل کو قاصد بنا لیا حسان

    شاعری ترجمان گزری ہے

    حسان احمد اعوان

    عشق آزار کر دیا جائے

    0

    عشق آزار کر دیا جائے

    سب کو بیدار کر دیا جائے

    کر کے آباد ہجرِ یاراں میں

    دل کو مختار کر دیا جائے

    اِس طرف کے نہیں جو لوگ انہیں

    اب کے اُس پار کر دیا جائے

    دام دینے لگے جو مٹی کے

    اُس کو انکار کر دیا جائے

    آؤ نکلیں جنوں کے سائے سے

    یہ نہ ہو وار کر دیا جائے

    ایسے کچھ رہنما میسّر ہوں

    نیک کردار کر دیا جائے

    نیند آنکھوں تک آنے والی ہے

    خواب تیّار کر دیا جائے

    چاہتا ہوں کہ اب مجھے حسّان

    مجھ سے بیزار کر دیا جائے

    حسان احمد اعوان

    یہ تو گیا کہ مری عمر کی کمائی گئی

    0

    میاں شعور کی دولت ہی کام لائی گئی

    ضمیر بیچ کے دنیا نہیں کمائی گئی

    خدا کا شکر مرے حوصلے جوان رہے

    وگرنہ راہ میں دیوار تو اُٹھائی گئی

    کسی کو جلوہ کسی کو وصال بخشا گیا

    ہمارے دل کو حَسَد کی سزا سنائی گئی

    پھر اُس کے بعد تو خوشبو نہیں لگائی کبھی

    تمھارے لمس سے یوں دوستی نبھائی گئی

    تمام عُمر تجھے چاہتے رہے ہم لوگ

    ہمیں تو ایک محبت ہی بس پڑھائی گئی

    یہ ہجر ہے کہ خزانے سے ہاتھ اُٹھتا ہے

    یہ تو گیا کہ مری عمر کی کمائی گئی

     حسان احمد اعوان 

    نفس کا در جو مرے اندروں بنایا گیا

    0

    نفس کا در جو مرے اندروں بنایا گیا

    وہ اسم پھونکا گیا آبِ خوں بنایا گیا

    ثمر ہمارا ہی بانٹا گیا زمانے میں

    ہم ایسے پیڑ جنہیں سر نگوں بنایا گیا

    جلائے عشق بھی ممکن ہوئی اسی کے طفیل

    خدا کا شکر ہمارا جنوں بنایا گیا

    اک آسمان کو تانا گیا زمین کے سر

    کوئی سہارا نہ کوئی ستوں بنایا گیا

    دراڑ ڈالی گئی ہجر سے تعلق میں

    ہمارے حال کو ایسے زبوں بنایا گیا

    حسان احمد اعوان

    لفظ خاموش ترازُو سے نکل آیا ہے

    0

    لفظ خاموش ترازُو سے نکل آیا ہے

    اور معنی بھی نیا ھُو سے نکل آیا ہے

    سوچ میری کبھی آزاد سفر کرتی تھی

    اب تو زندان پکھیرُو سے نکل آیا ہے

    کتنی آزادی سے اب لوگ اُسے سوچتے ہیں

    جیسے وہ فِکرِ مَن و تُو سے نکل آیا ہے

    دل میں پیوست اگر ہو تو مزہ آ جائے

    تیر جو حلقہِ اَبرُو سے نکل آیا ہے

    خاک سے خوُشبوئیں نکلی تھیں سرِ دشت کبھی

    اور اب پُھول بھی خُوشبُو سے نکل آیا ہے

    تھوڑی محنت تو ہمیں کرنا پڑی ہے حسان

    یہ جو دریا سا لَبِ جُو سے نکل آیا ہے

    حسان احمد اعوان